مصنف کی کہانی

ایک مصنف کی کہانی - Part 1


کچھ سال پہلے ایک مصنف ہوا کرتا تھا، جو سوچ اور سچ لکھتا تھا۔ ایک دن اسے لکھنے کے لیے کوئی موضوع چاہیے تھا، پھر اس کے ذہن میں ایک موضوع آیا، کیونکہ وہ حقیقت پسند شخص تھا اور جذبات کو محسوس کر کے لکھتا تھا۔


وہ ایک طوائف کی زندگی کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا، کہاں سے آتی ہیں؟ کیوں آتی ہیں؟


تو اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں ان سے مل کر یہ چیزیں جانوں، کیونکہ حقیقت وہی بتا سکتی ہیں اپنی اس زندگی کی، جس میں نہ جانے کتنے راز چھپے ہوئے ہیں۔


اس نے ایک روز، ایک طوائف کو بلایا جو 35 یا 40 سال کی تھی، اسے اس نے اپنے گھر بٹھایا اور سوال پوچھیں لیکن وہ اس قدر اس جہان میں ڈال گئی تھی، جیسے کے اس نے کبھی عام سے زندگی نہ جی ہو! وہ میرے قریب آنے لگی تو میں نے اسے پیسے دے کر واپس بھج دیا۔


اسی طرح اس نے کچھ اور لڑکیاں منگوائی تھیں لیکن وہ بھی اس کی طرح کر رہی تھیں اور ان میں بس ایک مشترکہ چیز تھی ان کی عمر، وہ بہت سال ایسی دماغی قید میں رہ چکی تھیں جس سے آگی ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔


میں نے کچھ دن بعد اپنے دوست کو بتایا تو اس نے کہا "میں دیکھتا ہوں، کوئی ایسا بندہ کو جو یہ کام کروادے اور چھوٹی لڑکی دیکھے"۔


میں شام کے وقت سوتا ہوا تھا اچانک سے میری موبائل کی رنگنگ کرنے لگی تو میں یکدم سے اٹھ گیا اور کال اٹھا کر سلام کیا، پھر دوست نے کال پر سلام کا جواب دیا اور بولا "تمارا کام ہو گیا ہے، جلدی سے آؤ یہاں مطلب جگہ کا پتہ بتایا"۔


میں اسی وقت اٹھ کر فریز ہو گیا اور اپنی بائیک لے کر اس کی طرف چلا گیا، جیسے ہی میں وہاں پہنچا اپنے دوست سے ملا اور پھر وہ مجھے ایک گھر کے اندر لے گیا جہاں پر اس نے میرے سامنے لڑکیوں کی ٹولی کھڑی کر دی۔


ایک مصنف کی کہانی - Part 2


میں غور سے سب کے چہروں کو دیکھ رہا تھا اور ان کی نقل و حرکت جو وہ میرے سامنے کر رہی تھیں، لیکن ان میں صرف ایک لڑکی تھی جو میرے سامنے گھبرائی ہوئی تھی اور اس کا چہرہ اس کی معصومیت کی گواہی دے رہا تھا۔


میں اس آدمی سے بات کر کے اسے اپنے ساتھ لے آیا اپنے چھوٹے سے گھر میں، اسے میں نے روم میں بٹھایا اور میں کچھ کھانا اور کولڈ ڈرنک لینے چلا گیا، جیسے ہی میں واپس آیا وہ وہیں پہی کھڑی تھی اور اس کے ہاتھ میں میری لکھی ہوئی ایک کہانی کا کاغذ تھا،

میں نے مسکراہٹ بھرے لہجے میں کہا "یقیناً آپ ایک پڑھی لکھی لڑکی لگتی ہیں"۔

اس نے بڑے ہی پیارے لہجے سے بولا "جی"


ابھی بس میں نے اپنے لیے کھانا نکالا اور اسے بھی کھانا دیا، لیکن وہ کھانا نہیں لے رہی تھی شاید اس لیے کہ وہ گھبرائی ہوئی تھی، میں نے اسے بولا "اگر آپ نہیں کھائیں گی تو میں بھی نہیں کھاوں گا"۔

پھر اس نے پریشانی بھری لہجے میں کہا "پتہ نہیں آپ کیا کرنا چاہتے ہیں میرے ساتھ"

میں نے پھر ہنسی والے لہجے میں بولا "کھانا کھا لیں، سمجھیں کہ ایک دوست آپ کو عرض کر رہا ہے"۔


اس کے بعد ہم نے کھانا شروع کر لیا، اور میں اسے اپنی کہانیاں بتاتا رہا۔ میں ایسی چیزیں اس لیے کر رہا تھا، کیونکہ میں چاہتا تھا وہ مجھے اپنا دوست سمجھ کر مجھے اپنی زندگی کے بھاری رازوں میں شریک کرے۔


یک مصنف کی کہانی - Part 3

کھانا کھاتے ہوئے باتوں ہی باتوں میں، میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔

اس نے اپنا بڑا ہی پیارا نام بتایا "مُقَدَّس"۔

میں نے اس سے پوچھا "اس نام کا مطلب جانتی ہیں آپ؟"

وہ سر ہلا کر بولی "جی، ہاں"۔

میں نے اس کے بعد اس کو کچھ الفاظ بولے "ماشاء اللہ، آپ کا لہجہ اور تربیت بالکل آپ کے نام سے ملتی ہے، ائے پاک لڑکی"۔

اس کے بعد وہ چپ ہو گئی، جیسے کے میں نے کوئی بڑی بات کر دی ہو، پھر ہم دونوں نے کھانا کھا لیا۔

میری عادت تھی سگریٹ پینے کی تو میں واپس آ کر اپنی چیر پر بیٹھ گیا اور سگریٹ پینے لگا۔

پھر میں نے مُقَدَّس سے پوچھا "کیا آپ جائیں گی واپس یا یہاں میرے گھر رات رہیں گی؟"


اس نے پھر معصومانہ لہجے سے کہا "جیسے آپ کی مرضی"۔

میں نے ہنسی بھرے لہجے میں کہا "چلو اس بار آپ اپنی مرضی!!"۔


ویسے وہ میری ہر بات سے پریشانی والا چہرہ بنا دیتی تھی۔

"حضور، میں نہیں جانتی! میں صرف آپ کی ایک غلام ہوں، اب میرا جسم بھی آپ کے حوالے ہے، لیکن آپ کیوں مجھے اتنی عزت دے رہے ہیں؟ نہ ہی آپ نے مجھے چھونے کی کوشش کی ہے!، آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں!" پھر سے وہ پریشان ہونے لگی تھی۔


اس کو دیکھ کر تو میں بھی پریشان ہو رہا تھا۔ پھر میں نے اس کو جھوٹ بولا جو میری سچائی سے ملتا ہے۔

پھر میں نے مُقَدَّس کو بولا "مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے، بس میں اکیلا رہ کر تھک چکا تھا، بہت ٹائم بعد کسی کے ساتھ کھانا کھایا ہے، میں اپنے گھر والوں سے جڑا ہو کر یہاں رہتا ہوں"۔

یہ کہہ کر میں نے اسے کچھ پیسے دے دیے۔

اس نے کہا "میں اس پیسوں کا کیا کروں گی جب کے، میں ایک قید میں رہتی ہوں، ہمیں باہر جانے کی آزادی نہیں، نہ ہی ہم کچھ اپنی پسند کا لے سکتے ہیں"۔


ایک مصنف کی کہانی - part 4 

ابھی اس کی باتیں سن کر مجھے غصہ آ رہا تھا، کیونکہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا تو میں نے اسے بولا "آج آپ میرے ساتھ رہیں گی، جو آپ کو چاہیے آپ مجھے کہہ سکتی ہیں"۔


اس کے بعد وہ چپ ہو گئی اور میں نے اسے آزادی کا احساس دلائی۔

یہ میرا گھر ہے اور آپ یہاں جو چیز چاہیں پڑھ سکتی ہیں، باہر جانا چاہیں تو جا سکتی ہیں۔


رات بھی چکی تھی اور میں گھر بیٹھ کر بور ہو رہا تھا، تو میں نے مُقَدَّس کو آواز دی اور کہا کہ "چلو آج میں آپ کو گھومانے لے چلتا ہوں، اور جو آپ کو خریدنا ہو وہ آپ لے سکتی ہیں، پیسوں کی فکر بالکل نہ کرنا"۔


اس نے دھیمی آواز میں جی بولا اور تیار ہونے چلی گئی۔

یوں ہی میں بھی اپنی کار لے کر آ گیا اور وہ دروازے پر میرا انتظار کر رہی تھی۔

میں نے اس کو کار میں بٹھایا، اور میں نے سیدھا ایک شاپنگ مال پر روکا۔

ویسے جب سے وہ کار میں بیٹھی تھی بس مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔

اس کے بعد اس نے اپنے دل میں چھپا ہوا سوال کیا "حضور، یہ کار آپ کی ہے؟”


ایک مصنف کی کہانی - part 5

میں نے مسکرا کر بولا "جی حضور، یہ کار میری اپنی ہے" یہ بات تو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے غریب سمجھ رہی تھی، میرے درویش جیسے روپ سے۔


ہم اس کے بعد ڈولمین مال کے اندر گئے پھر میں نے اس کو کچھ پیسے دیے اور کہا کہ شاپنگ کر لو، میں صرف سگریٹ پی کے آتا ہوں۔ پھر وہ اپنی آزادی کا مزہ لے رہی تھی، اور میں آرام آرام سے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔


مجھے اس کو دیکھ کر بہت خوشی بھی ہو رہی تھی اور افسوس بھی ہو رہا تھا، کیونکہ وہ چیزوں کو تو دیکھ رہی تھی لیکن نہ جانے کیوں وہ کوئی چیز نہیں لے رہی تھی۔ پھر میں اس کے پاس چلا گیا۔


میں نے اسے بولا کہ اگر میرے پاس کوئی آپ جیسی لڑکی ہوتی تو یہ ڈریس ضرور لیتا، کیا آپ لینا چاہیں گی؟؟؟


وہ ویسے ہی چپ تھی، تو میں نے وہ ڈریس لے لی اس کے لیے اور کچھ دوسری ڈریس بھی لی جو مجھے پسند آئی، کیونکہ میں جان گیا تھا کہ وہ میرے پیسوں سے نہیں لے گی۔


اس کے بعد مجھے بھوک لگی تو، میں نے سوچا کہ کچھ کھائیں کسی ریستوراں میں بیٹھ کر، تو ہم چلے گئے ریستوراں میں۔ پھر میں نے کھانا آرڈر کیا، اور ہم انتظار کر رہے تھے کھانے کا تو مجھے خیال آیا کہ شاید میں اس سے سوال کر لوں۔


پھر میں نے اس سے سوال کیا آپ نے یہ نہیں بتایا کہ "آپ کہاں سے ہیں؟!"

وہ سوچ میں پڑ گئی، اور پھر سوچ سوچ کر اس نے ایک گاؤں کا نام بتایا جہاں سے وہ آئی تھی۔


ایک مصنف کی کہانی - Part 6

میں اپنی واچ میں وقت دیکھ رہا تھا، تو اس نے آرام سے ایک آرز بھری لہجے میں پوچھا "حضور کیا میں آپ کا نام جان سکتی ہوں"۔


میں نے اس اپنا نام بتایا "جی، میرا نام حسن ہے"۔ اس کے بعد میں نے اس سے پوچھا "یہاں تک آپ کیسے پہنچی؟ کیا آپ بتا سکتی ہیں اگر برا نہ مانیں تو؟"


اس کو مجھے پر یقین ہو گیا تھا تو وہ میرے ساتھ comfortable feel کر رہی تھی، اور پھر اس نے اپنی زندگی کا کیسا بتا شروع کیا۔


"میں ایک گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں، اور میرے کوئی بھائی نہیں تھے۔ ہم 4 بہنیں تھیں اور امی ابو۔ مجھے ایک شخص سے محبت ہو گئی تھی، اس کا نام علی تھا، اور وہ بھی مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن ہمارے گاؤں کا ماحول ایسا نہیں تھا جیسے آپ لوگوں کا ہے، تو اس رات میری برتھ ڈے تھی تو مجھے تحفہ دینے آیا تھا۔ ایسے ہی اس کو کچھ لوگوں نے دیکھ لیا تھا۔ اسے وہ ہمارے گھر آیا اور پھر جیسے ہی وہ باہر نکلا تو اسے لوگوں نے بہت مارا۔ یوں صبح ہوئی تو سب کو پتہ چل گیا اور گاؤں والوں نے ہمیں دونوں کو مارنے کا فیصلہ کیا، جسے آپ لوگ بولتے ہو honour killing۔ اس کے بعد میرے گھر والوں نے چپکے سے مجھے وہاں سے بھگا دیا اور علی کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ بھاگ سکے۔ تو میں نہیں سمجھتی کہ وہ ابھی زندہ ہوگا۔


گاؤں سے نکلتے وقت ہی، سامنے دوسرا گاؤں تھا۔ ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا، اور یہاں لے آئے آ گئے۔ پھر یہاں جو میرے ساتھ ہوا وہ آپ کو بات نہیں سکتی۔ یوں سمجھ لیں کہ میں مر گئی 

ہوں اور جہنم کی آگ میں جل رہی ہوں۔


یہاں ہر ایک عورت کی اپنی کہانی ہے۔ کسی کو کسی کے شوہر نے چھوڑ دیا، کوئی میری طرح آئی ہے، کسی کو گھر والوں نے خود بھیجا ہے ایک بوجھ سمجھ کر۔


End 

ایک لڑکی نے مجھ سے کہا تھا، ایک طوائف کی اپنی دنیا ہوتی ہے، جس میں نہ کوئی خواہش، نہ کوئی امید، نہ کوئی جنت اور دوزخ، صرف اندھیروں سے بھرا ہوا راستہ جس سے نکلنے کا کوئی بھی راستہ نہیں۔ اور شاید اس لیے ہی کوئی طوائف کسی کو اپنی کہانی نہیں بتاتی، اس کی کہانی میں صرف جسم کی نمائش ہے۔ ویسے بھی باجی کہتی ہیں، یہ ہی جسم تو ہے جس نے ہمیں اپنے وجود کا احساس دلایا ہے، ورنہ تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔

بس یہ ہی ہماری زندگی ہے۔


اس کے بعد وہ خاموش ہو کر سر جھکا کے بیٹھ گئی، شاید اسے اپنی اداس زندگی کا افسوس ہو رہا تھا۔


اسی وقت میں نے اپنی جیب سے موبائل نکالا اور اپنے دوست کو پیغام بھیجا کہ وہ جا کر اس لڑکی کی رقم پہنچا دے کیونکہ میں اسے واپس اس جگہ نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔


وہ میرا دوست ایک خاندان کے فرد کی طرح تھا، کیونکہ پہلے وہ مجھے پیسے دیتا تھا اور میری مجبوری کے وقت میرے ساتھ تھا، تو میں اپنی آدھی تنخواہ اس کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتا تھا کیونکہ وہ اپنی پوری فیملی کو اکیلا سنبھالتا ہے۔ اس کا نام تو بتانا ہی بھول گیا، اس کا نام وحید تھا اور گھر والے اسے میری دوسری بیوی سے جانتے تھے، تھوڑا مزاح بھی ہونا چاہیے۔


تو واپس آتے ہیں کہانی کی طرف، ابھی بس کھانا آ گیا تھا اور ہم نے کھانا شروع کر دیا تھا، تو کچھ منٹ بعد دوست کا پیغام آیا کہ 20 لاکھ لے رہے ہیں اس لڑکی کا، تو میں نے اسے کہا دے دو کوئی بات نہیں ہے۔ اس نے "ٹھیک ہے" کا جواب دیا اور اب اس لڑکی کی زندگی میرے ہاتھ میں تھی۔


ہم جیسے ہی کھانا کھا کر نکلے اس ریستوران سے تو میں نے اسے گاڑی میں بیٹھتے وقت بتا دیا کہ، آج سے آپ میری امانت ہیں۔

اس نے "جی" کہا اور ہلکی سی مسکراہٹ دی۔ شاید وہ جان گئی تھی کہ میں اسے کس لیے لایا ہوں۔

اس کے بعد اس نے مجھ سے عرض کی کہ "میرا سامان وہاں پڑا ہے اور وہ مجھے لینا ہے"۔

میں نے اسے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ سامان آپ کو مل جائے گا، کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے سامنے پھر کوئی ایسی مقدس چیز آ جائے اور اس کے لیے میں کچھ نہ کر سکوں۔


میں نے اسے اپنے دوسرے گھر میں چھوڑ دیا اور ایک آزادی والی زندگی دے دی۔


جاتے وقت اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا، جو کہ اس کا حق بھی تھا کہ "آپ نے ایسا کیوں کیا؟"

میں نے ہنس کر جواب دیا "بے فکر ہو جاؤ آپ، یہ سب میں نے اپنے لیے کیا، کیونکہ میرے گناہ عروج تک پہنچ گئے تھے اور نہ جانے میں نے کتنی زندگیاں برباد کی ہوں گی۔”


Comments

Popular posts from this blog

SocH Aur Sach